کراچی: پاک قطر فیملی تکافل کے آئی پی او کی بک بلڈنگ کا آغاز 11دسمبر سے ہو گیا ہے جو 12دسمبر تک جاری رہے گی۔آئی پی او میں بڑے انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو 100فیصد (50ملین شیئرز) آفر کیے جائیں گے۔ بک بلڈنگ کے عمل کے بعد کامیاب بولی دہندگان کو 50ملین شیئرزمیں سے37.5 ملین شیئرز(75فیصد) جبکہ بقیہ 12.5 ملین (25فیصد) شیئرزریٹیل سرمایہ کاروں کیلئے اسٹرائک پرائس پر پیش کیے جائیں گے۔
پاک قطر فیملی تکافل کا آئی پی او کے ذریعے 1.1بلین روپے اکھٹاکرنے کے منصوبہ ہے۔ بک بلڈنگ کا آغاز 14روپے فی حصص سے کیا جائے گا اور بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر حصص کی اسٹرائک پرائس 21روپے فی شیئر تک بڑھ سکتی ہے۔
آئی پی او کی لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد علی حبیب نے کہاکہ یہ پاکستان میں کسی بھی بڑی فیملی تکافل کمپنی کا پہلا آئی پی او ہے اور سرمایہ کار اس پیشکش میں بھر پور دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پاک قطر فیملی تکافل کو کم سے کم کیپٹل ضروریات پوری کرنے، اپنے ڈیجیٹل چینلز کو توسیع دینے اور مزیدصارف مرکوز پراڈکٹس متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔
پاک قطر فیملی تکافل کو قطر کے فنانشل سیکٹر کی مضبوط سپورٹ حاصل ہے۔کمپنی کا آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی انشورنس مارکیٹ میں اپنے آپریشنز اور مصنوعات کو توسیع دینے کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔
پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ پاکستان کی پہلی اور سب سے بڑی فیملی تکافل کمپنی ہے۔ اس وقت کمپنی کے پاس مجموعی فیملی تکافل سیکٹر کا 44فیصد اور فیملی تکافل سیگمنٹ کا 90.47فیصد مارکیٹ شیئرہے جبکہ ملک کے مجموعی لائف انشورنس بزنس میں کمپنی کا شیئر 6.6فیصد ہے۔
ملک بھر میں سیلز نیٹ ورک پر مشتمل 73برانچز اور 1971فیلڈ نمائندوں کے ساتھ پاک قطر فیملی تکافل ذاتی سرمایہ کاری اور تکافل سلوشنزپیش کرتی ہے۔ پاک قطر فیملی تکافل نے بینک برانچز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تحفظ سلوشنز فراہم کرنے کیلئے 14کلیدی بینکوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بھی کی ہے۔
پاکستان میں 2024میں بڑھتی ہوئی تعلیم اور بہتر معاشی حالات میں مستقبل میں مضبوط ترقی کے امکانات کے باوجود انشورنس کی رسائی 0.7فیصد کم رہی۔ گلوبل انشورنس انڈسٹری نے تیزی سے لیکن غیر مساوی ترقی کی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں 10فیصد سے زیادہ رسائی دیکھنے میں آئی ہے اورابھرتی ہوئی EMEAاور ایشیا مارکیٹس اس میں پیچھے ہیں
ایک تبصرہ شائع کریں