پاک قطر تکافل کا علمائے کرام اور شریعہ اسکالرز کیلئے تکافل کی تفہیم پر ویبنار کا انعقاد!
کراچی: پاک قطرتکافل گروپ نے آئی بی اے سیف (سینٹر فار ایکسلنس ان اسلامک فنانس) کے اشتراک سے "انڈراسٹینڈنگ تکافل فار علماء اینڈ شریعہ اسکالرز" کے عنوان سے 2سیشن پر مشتمل ایک ویبنار کا انعقاد کیا۔ پاک قطر تکافل گروپ کے شریعہ بورڈ کے چیئرمین مفتی حسان کلیم نے اس موضوع پرگفتگو کی۔ آئی بی اے سیف کے ڈائریکٹر اور میزان بینک کے گروپ ہیڈ شریعہ کمپلائنس احمد علی صدیقی نے سیشن کی نظامت کی۔
اس نشست میں مفتی محمد حسان کلیم نے انشورنس سے متعلق شرعی مسائل کا تذکرہ کیا جن کی وجہ سے اسلام میں انشورنس کو ممنوع قراردیاگیا ہے۔ مفتی حسان کلیم نے تکافل کی تھیوری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ باہمی انشورنس کا تصور اسلامی تصوارت کے قریب ہے اور اسے کچھ ترمیم کے بعد اختیار کیا جاسکتا ہے۔ تکافل (انشورنس کا متبادل اسلامی نظام)مضاربہ، وکالہ یا وقف وکالہ کی بنیاد پر کیا جاتاہے۔
انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان میں وقف وکالہ ماڈل کو وقف کے تصور کے طورپر اپنایاگیاہے جس کی قانونی حیثیت ایک قانونی شخصیت کی سی ہے اور ایک دائمی وجودہے۔جنرل تکافل اور لائف تکافل (فیملی تکافل)کمپنیاں وقف وکالہ ماڈل استعمال کرتی ہیں۔ویبینار کے دوسرے سیشن میں سوال و جواب کا تفصیلی سیشن بھی ہوا جس میں شرکاء کے سوالا ت کے جوابات دیے گئے۔
ایک تبصرہ شائع کریں