ملک کی ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت
آج تک جس ملک نے بھی ترقی کی تو اس نے تعلیم کے شعبے میں بے پناہ توجہ دی، موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ اب ٹیکنالوجی کا دور آ گیا ہے، جب سے موبائل فون اور کمپیوٹر عام ہوئے اس کے بعد تعلیم کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔تعلیم کسی بھی ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم ہی کی بدولت کامیابی حاصل کی۔ایشیائی ممالک کی ہی مثا ل لے لیں، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا میں بھی شرح تعلیم پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔
پاکستان ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں ماضی میں تعلیم کو خاص اہمیت نہیں دی گئی جس کے باعث پاکستان کی شر ح خواندگی انتہائی کم رہی۔آئین پاکستان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ 5سال سے 16سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم دے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً 2کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے،جس کا اظہارگزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے خود کیا، جو کہ مستقبل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ملک میں گورنمنٹ اسکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جو ہیں ان میں بھی مناسب سہولتیں میسر نہیں۔پاکستان میں تقریباً50% اسکول ایسے ہیں جن میں پینے کا پانی، واش روم کو سہولت، حتی کہ چار دیواری بھی میسر نہیں ہے،سرکاری اساتذہ اسکول میں کم جاتے ہی، اگر جاتے بھی ہیں تو زیادہ سنجیدگی سے نہیں پڑھاتے۔ یہ حالت کسی ایک صوبے کی نہیں تمام صوبوں کی ہے۔الیکشن کے دوران تمام سیاسی پارٹیاں ووٹ لینے کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن جب حکومت میں آتی ہیں تو اپنا وعدہ وفا نہیں کر تیں۔سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی جاتی صرف دعوے ہی کیے جاتے ہیں۔
تعلیم کے باعث انسان میں حق اور سچ کی پہچان آتی ہے اور انصاف کے دروازے کھلتے ہیں اور با شعور بناتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں بربادی کا شکار ہوئی،ان کی تعلیمی میدان میں نااہلی بھی ان کی ایک وجہ بنی۔ تعلیم میں بھی بد عنوانی جوپیسا ملتا ہے اس کا بڑا حصہ بد عنوانی کی نظر ہو جاتا ہے۔اربوں روپے کا اعلان ہوتا ہے مگر اس میں سے تعلیم پر بہت کم خرچ ہوتے ہیں۔ہمار ا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اس میں اگربد عنوانی ہو گی تو ملکی ترقی کیسے ممکن ہے وہ بھی تعلیم کے میدان میں، اسے ہم اپنی بہت بڑی بدقسمتی کہہ سکتے ہیں۔میری نظر میں پاکستان کی ترقی کا راستہ تعلیمی میں بہتری کے باعث ہی ممکن ہے۔ایک تعلیم یافتہ طبقہ ہی بدعنوانی سے پاک معاشرے کو پروان چڑھا سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم، عمران خان نے احساس کفالت کے تحت سہہ ماہی بنیا د پر پرائمری اسکول کے لڑکوں کو 1500روپے، لڑکیوں کو 2000روپے وظیفہ، سیکنڈری اسکول کے لڑکوں کو 2500روپے، لڑکیوں کو 3000 روپے جبکہ ہائر سیکنڈری اسکول کے لڑکوں کو 3500روپے لڑکیوں کو 4000روپے وظائف دیئے جائیں گے۔ یہ تمام تعلیمی وضائف 70فیصد حاضری پر بائیو میٹرک طریقے سے دیے جائیں گے۔یہ ایک اچھا اقدام ہے جس سے بہت سارے غریب بچے اپنی تعلیم حاصل کر سکیں گے، ایسے ہی اقدام ملک میں غربت کی کمی کا باعث بن سکیں بنیں گے۔
کیونکہ پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام ہیں جو پڑھائے جار ہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے پورے ملک میں ایک تعلیمی نظام کا اعلان کر دیاہے اس پر سندھ حکومت کو تحفظات ہیں۔ وفاق کو چاہیے کہ سندھ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر مستقبل کے بارے میں ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کو ترجیح دی جائے،سندھ حکومت اور وفاق کو ایک پالیسی پر عمل کرنا چاہیے اگر کوئی صوبہ جو پیسہ تعلیم کے لیے مختص کرے وہ پورا تعلیم پر ہی خرچ ہواس میں بد عنوانی نہ ہو۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اپنے بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ تعلیم کو دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام پیسہ ایماندار ی سے تعلیم پرہی خرچ ہو۔
نبیل احمد، کراچی
ایک تبصرہ شائع کریں