حکایاتِ رومیؒ
ہیرا اور جوہری
ایک جگہ کوڑے کا ڈھیر پڑا تھا...... ایک مرغ اس کو کریدنے ل.... اسی کوشش اور جستجو میں اس کو ہیرا پڑا نظر آیا۔۔۔ بولا کہ بیشک تو بیش قیمت ہے مگر۔۔۔۔ مجھے اس سے کیا۔۔۔ تو اگر کسی جوہری کو مل گیا ہوتا تو تیری قدر کرتا۔۔۔ تجھے اپنی دستار میں سجاتا۔۔۔ بہتر تھا کہ تیر ےعوض مجھے کسی اناج کا دانہ مل گیا ہوتا۔
👇👇👇👇👇👇👇👇👇
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ!
ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزے دار قصے سنا رہا تها.....داستان گو اتنی معلومات رکهتا تها کہ باقاعدہ اچها خاصا درزی نامہ مرتب ہو سکتا تها.....جب اس آدمی نے درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غائب کردینے کے ان گنت قصے بیان کر ڈالے، تب سننے والوں میں ملک خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش و ذہانت پر بڑا ناز تها، کہنے لگا؛ "اس علاقے میں سب سے گرو درزی کونسا ہے؟"
داستان گو نے کہا "یوں تو ایک سے ایک ماہر فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں، لیکن پورش نامی درزی بڑا فنکار ہے، اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکهوں کا .....
ترک کہنے لگا "لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا اور دیکهوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکهوں میں دهول جهونک کے کپڑا چراتا ہے میاں کپڑا تو درکنار ایک تار بهی غائب نہ کر سکے گا.!."
دوستوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے "ارے بهائی زیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بهی بہت سے یہی دعوی کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کها گئے تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا، دهوکا کهائے گا۔ "
محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گهر چلا گیا۔ اسی پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں ساری رات گذاری۔ صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کا نام پوچهتا پوچهتا اس کی دکان پر پہنچ گیا......درزی اس ترک گاہک کو دیکهتے ہی نہایت ادب سے کهڑا ہو کر تسلیمات بجا لایا۔ درزی نے خوش اخلاقی و تعظیم و کریم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک بےحد متاثر ہوا اور دل میں کہنے لگا یہ شخص تو بظاہر ایسا عیار اور دغاباز نظر نہیں آتا ۔ لوگ بهی خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں اور یہ سوچ کر قیمتی اطلس درزی کے آگے دهر دی اور کہنے لگا "اس اطلس کی قبا مجهے سی دیں۔"
درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے اپنے سینے پر باندهے اور کہنے لگا "حضور قبا ایسی سیوں گا، جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکهے گی۔"
اس نے کپڑا گز سے ناپا پهر کاٹنے کے لئے جا بجا اس پر نشان لگانے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ادهر ادهر کے پرلطف قصے چهیڑ دیئے۔ ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہونے لگیں، جن میں ترک کو بےحد دلچسپی ہو گئی۔ جب درزی نے اسکی دلچسپی دیکهی تو ایک مزاحیہ لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا اس کی چندهی چندهی آنکهیں اور بهی مچ گئیں.... درزی نے جهٹ پٹ کپڑا کاٹا اور ران تلے ایسا دبایا کہ سوائے خدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا۔ غرض کہ اس پرلطف داستان سرائی میں ترک اپنا اصل مقصد اور دعوی فراموش کر بیٹھا.....
ﮐﺪﻫﺮ ﮐﯽ ﺍﻃﻠﺲ۔۔!!
ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ..!!
ہنسی مذاق میں سب سے غافل ہو گیا۔ ترک درزی سے کہنے لگا، ایسی ہی مزیدار کوئی اور بات سناوٴ ..!
درزی نے پهر چرب زبانی کا مظاہرہ کیا، ترک اتنا ہنسا کہ اس کی آنکهیں بالکل بند ہو گئیں....
ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺭﺧﺼﺖ..!!
ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ..!!
ترک نے چوتهی بار مذاق کا تقاضا کیا تو درزی کو کچھ حیا آ گئی اور کہنے لگا "مزید تقاضا نہ کر اگر ہنسی کی اور بات کہوں گا تو تیری قبا تنگ ہو جائے گی۔"
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽؒ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ؛ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ..!! ﺩﻏﺎﺑﺎﺯ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ..!! ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺴﻨﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ..!! ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ..!!
تو ﺳﻨﻮ!
وہ غافل ترک تیری ذات ہے، جسے اپنی عقل و خرد پر بڑا بهروسہ ہے۔ وہ عیار دهوکہ باز درزی یہ دنیائے فانی ہے۔ ہنسی مذاق نفسانی جذبات ہیں۔ تیری عمر اطلس پر دن رات درزی کی قینچی کی مانند چل رہے ہیں دل لگی کا شوق تیری غفلت ہے۔ اطلس کی قبا تجهے بهلائی اور نیکی کے لئے سلوانی تهی اور وہ فضول مذاق اور قہقہوں میں تباہ و برباد ہو گئی۔
ﺍﮮ ﻋﺰﯾﺰ!
اپنے ہوش و حواس درست کر, ظاہر کو چهوڑ, باطن کی طرف توجہ کر, تیری قیمتی عمر کی اطلس لیل و نہار کی قینچی سے دنیا کا مکار درزی ٹکڑے ٹکڑے کر کے چرائے جا رہا ہے اور تو ہنسی مذاق میں مشغول ہے ..! ! (حکایات رومیؒ)
ایک تبصرہ شائع کریں