ایمریٹس گروپ نے سال 2021-22کی پہلی ششماہی کی مالیاتی کارکردگی کا اعلان کردیا

 ایمریٹس گروپ نے سال 2021-22کی پہلی ششماہی کی مالیاتی کارکردگی کا اعلان کردیا



کراچی، 10 نومبر، 2021۔ ایمریٹس گروپ نے مالی سال 2021-22کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا ہے۔   گروپ کا ریونیو سال 2021-22کی پہلی ششماہی میں 6.7 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 3.7 ارب ڈالرز کے مقابلے میں 81 فیصد زیادہ ہے۔ مستحکم ریونیو سے دنیا بھر میں سفری پابندیوں میں نرمی ظاہر ہوتی ہے اور اس عرصے میں کرونا ویکسی نیشن پروگرامز آگے بڑھنے کے باعث فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہوا۔ 

گروپ کو سال 2021-22کی پہلی ششماہی میں 1.6 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.8 ارب ڈالرز تھا۔ 

گروپ کی 30 ستمبر 2021 کو اختتام پذیر ہونے والی ششماہی میں 5.1 ارب ڈالرز پر مستحکم کیش پوزیشن برقرار رہی جو 31 مارچ 2021 کو 5.4 ارب ڈالرز تھی۔ 

ایمریٹس ایئرلائن اور گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو عزت مآب شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا، "سال 2021-22کے مالی سال کے آغاز پر دنیا بھر میں کرونا ویکسی نیشن پروگرامز انتہائی غیریقینی سطح پر متعارف کرائے جارہے تھے۔ ہم نے گروپ بھر میں ملاحظہ کیا کہ مختلف ممالک میں سفری پابندیاں نرم ہونے لگیں اور آپریشنز اور سفر طلب میں اضافہ ہونے لگا۔ یہ رجحان موسم گرما میں بڑھتا رہا اور پھر موسم سرما اور اس سے آگے بھی مستحکم انداز سے یہ رجحان آگے بڑھ رہا ہے۔" 

سال 2021-22کی پہلی ششماہی میں مالک کی جانب سے سرمایہ کاری کے لئے 681 ملین ڈالرز ایمریٹس میں لگائے گئے اور ائیرلائن کی بحالی کے سفر میں ان کا تعاون جاری رہتا ہے۔ 

ایمریٹس ایئرلائن کی پہلی ششماہی کے دوران فلائٹ پروگرام میں قابل ذکر طور پر توسیع کے باعث مسافروں کی گنجائش میں 66 فیصد اضافہ ہوا۔ ایمریٹس نے 1 اپریل سے 30 ستمبر 2021 کے درمیان 61 لاکھ مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچایا جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 319 فیصد زائد ہے۔ کارگو کا حجم 39 فیصد اضافے سے 11 لاکھ ٹن رہا جس کی بدولت اس کا کارگو بزنس عالمی وبا سے قبل سال 2019 کی سطح پر 90 فیصد تک واپس بحال ہوگیا۔ اس سے ایمریٹس اسکائی کارگو کی غیرمعمولی مستعدی اور اپنے صارفین کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت ظاہر ہوتی ہے، چاہے وہ ویکسینز اور فارماسیوٹیکلز، بنیادی اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان اور جلد خراب ہونے والی اشیاء ہوں، یا ریس کے گھوڑے ہوں یا اعلیٰ کارکردگی کی گاڑیاں ہوں۔ 

مالی سال 2021-22کی پہلی ششماہی میں ایمریٹس کو گزشتہ سال 3.4 ارب ڈالرز کے مقابلے میں 1.6 ارب ڈالرز کا نقصان رہا۔ ایمریٹس کا ریونیو بشمول آپریٹنگ آمدن 86 فیصد اضافے سے 5.9 ارب ڈالرز رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.2 ارب ڈالرز تھی۔ جہاں جہاں دنیا بھر میں پروازیں اور سفری رکاوٹیں ختم ہوتی گئیں مسافروں کی تیزی سے بڑھتی طلب نظر آتی ہے جس سے مستحکم ریونیو کی بحالی ہورہی ہے۔ 

ایمریٹس کی انتظامی لاگت 66 فیصد کی مجموعی گنجائش کے برخلاف 22 فیصد بڑھی۔ فیول کی لاگت گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں دو گنا ہوگئی۔ اسکی بڑی وجہ یہ رہی کہ اس ششماہی کے دوران فلائٹ آپریشنز میں غیرمعمولی اضافے کے ساتھ 81 فیصد زیادہ فیول بڑھا جبکہ اوسطاََ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 

اس ششماہی کے دوران آپریشنز میں نمایاں اضافہ بڑھنے کے ساتھ ایمریٹس ابتدا گزشتہ سال اسی عرصے میں 79 ملین ڈالرز کے مقابلے میں 1.4 ارب ڈالرز سے بحال ہوئی۔ 

ڈناٹا کا کارگو اور گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ اور ریٹیل،اور ٹریول سروسز کے بزنس میں عالمی وبا سے متعلق پروازوں اور سفری پابندیوں سے متعلق نرمی پر تیزی سے طلب بڑھی۔ اپنی انتہائی باصلاحیت ٹیم کی مستعدی اور مہارت کے اظہار کے ساتھ ڈناٹا تیزی سے اعلیٰ معیار کی خدمات کے ساتھ صارفین کی تیزی سے ضروریات پوری کرنے کے قابل تھا، جن میں ایئرلائن کے صارفین کے فلائٹ آپریشنز کی بحفاظت اور روانی سے بحالی سے لیکر صارفین کے طویل عرصے سے منتظر سفری منصوبوں میں معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ 

ڈناٹا کا ریونیو بشمول آپریٹنگ آمدن گزشتہ سال 644 ملین ڈالر کے مقابلے میں 55 فیصد اضافے سے 1 ارب ڈالر رہی۔ ڈناٹا کا مجموعی منافع گزشتہ سال اسی عرصے کے 396 ملین ڈالرز نقصان کے مقابلے میں 23 ملین ڈالر رہا۔ 

ڈناٹا کے ایئرپورٹ آپریشنز بدستور اسکے ریونیو میں اضافے کے سب سے بڑے محرک ہیں جن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ اسکے آپریشنز میں ڈناٹا کی جانب سے ہینڈل شدہ جہازوں کی تعداد 116 فیصد اضافہ سے پروازیں 2 لاکھ 22 ہزار 668 رہیں جبکہ اس نے 14 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کیا جو تقریبا 9 فیصد زیادہ ہے۔ 


0/کمنٹس: